PRCS and religious scholars vowed to preach the adaptation and mitigation measures to combat the negative effects of climate change

Home  /  Direct from the field  /  Current Page

On Wednesday, the Sindh branch of the Pakistan Red Crescent Society (PRCS) held its second follow-up coordination meeting on climate change with eminent religious scholars and other stakeholders at the Emergency Operations Centre Hilal-e-Ahmer House Karachi. The PRCS and religious scholars vowed to preach the adaptation of good ways to live a healthy life and reduce the negative effects of climate change in the context of the Islamic teachings.

The event was presided by the Chairman PRCS-Sindh Mrs. Shahnaz S. Hamid and former Federal Minister and Chairman of Al-Mustafa Welfare Society Haji Muhammad Hanif Tayyab and attended by Mufti Muhammad Zubair, Maulana Abdul Waheed, Maulana Tanveer-ul-Haq Thanvi, Mir Muhammad Abbass, Ziaur Rehman Akhwani, besides a large number of renowned religious scholars from different sects and people from different professions.

The purpose of this coordination meeting was to get the consent of religious scholars on a declaration to effectively disseminate the message of climate change from an Islamic perspective, including various training on different components of climate change, disaster management, and first aid to increase the capacity of Madaris and Masjid.

Chairman Mrs. Shahnaz thanked all the participants and said that this initiative of the Red Crescent was not only appreciated by all but also vowed by the religious scholars of all schools of thought and technical professionals of various universities to work together to reduce the negative effects of the climate and preach to adopt good practices for healthy living. She further said that the role of Ulema in raising awareness about climate change is of paramount importance and will be even more critical in the years to come. “This challenge could be effectively tackled if the Ulema sensitizes the public in their Jumma sermons and spokes on different occasions,” she added.

Haji Hanif also suggested to the religious scholars that the Imam of the mosque should talk about the negative effects of climate change in the last few minutes of the Friday sermon so that more people are aware of this important message. In addition, he also suggested spreading this awareness through Nikah’s sermon.

Mufti Zubair commended the PRCS for holding this follow-up meeting on climate change and said that the move showed the seriousness of the PRCS on the critical issue of climate change. Maulana Tanveer-ul-Haq Thanvi and other scholars also vowed to perform their role effectively and create awareness among the people about the serious environmental issue.

The coordination meeting was also attended by the technical professional, including representatives of IBA urban lab, Institute of Oceanography Pakistan, Sindh Environmental Protection Agency (SEPA), Pakistan Meteorological Department, Urban Forest, and seniors journalists from various media houses.

####################

پاکستان ریڈ کریسنٹ اور مذہبی اسکالرز نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اسلامی تعلیمات کے تحت شعور بیدار کرنے کا عزم

کراچی (پ ر) پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (پی آر سی ایس) کی سندھ برانچ نے بدھ کے روزکراچی میں واقع اپنے ایمرجنسی آپریشن سنٹر ہلال احمر ہاؤس  میں نامور مذہبی اسکالرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق دوسرےاجلاس کاانعقاد کیا۔ اس تقریب کی صدارت پاکستان ریڈ کریسنٹ سندھ برانچ کی چیئرمین مسز شہناز ایس حامد اور سابق وفاقی وزیر اور المصطفی ویلفیئرسوسائٹی کے چیئرمین حاجی محمد حنیف طیب نے کی. اس تقریب میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے معروف دینی اسکالرز اورمختلف شعباجات سے تعلق رکھنے والے ماہرین بشمول، مفتی محمد زبیر ، مولانا عبدالوحید ، مولانا تنویر الحق تھانوی ، میر محمد عباس اور ضیاء الرحمن اخوانی نے شرکت کی۔ اس کوآرڈینیشن میٹنگ کا مقصد ایک مشترکہ اعلامیہ پر مذہبی اسکالرز کی رضامندی حاصل کرنا تھا تاکہ ان کے زیراحتمام جمعہ کے خطبات اور دیگر مجالس و تقریبات کے ذریعہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات سے عوام کو آگاہ کیا جا سکے۔ چیئرمین شہناز حامد نے اپنے خطاب میں تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ پاکستان ریڈ کریسنٹ کے اس اقدام کو تمام اسٹیک ہولڈرز بے حد سراہا ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے مذہبی اسکالرز اور مختلف یونیورسٹیوں کے تکنیکی پیشہ ور افراد نے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں  کے منفی اثرات کو کم کرنے سے متعلق شعور کو بیدار کرنےاور صحت مند زندگی گزارنے کے اچھے طریقوں کو اپنانے سے متعلق معلومات کو عام کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔ چیئرمین شہناز حامد کا کہنا تھا کہ اس شراکت کے علاوہ مدرسوں اور مساجد کی صلاحتیوں کو بڑھانے کے لیے پاکستان ریڈ کریسنٹ کے مختلف محکماجات ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ابتدائی طبی امداد اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق متعد تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کریگے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے معاملے میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے ، لہذا موسمیاتی تبدیلی کو ترجیحی بنیاد پر ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ اسلام بھی ہمیں صفائی کا درس دیتا ہے، مگر ہمارے شہروں میں ہر جگہ کچرے کے ڈھیر ہے،اسی لیے  اب اس بات کو محسوس کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں علمائے کرام کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹا جاسکے گا اگر علمائے کرام اپنے خطبوں میں عوام کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں قرانی تعلیمات کی روشنی میں آگاہی فراہم کریں۔ حاجی محمد حنیف طیب نے اپنے خطاب میں مذہبی اسکالرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مساجدوں کے امام صاحبان کو جمعے کے خطبے کے آخری لمحات میں اس اہم امور پر بات کرے تاکہ زیادہ لوگوں تک موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی پہچائی جا سکے۔ اس کے علاوہ مذہبی تہوار اور نکاح کی تقریبات میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بات کر کے اس پیغام کو عام کرنا چاہیے۔ مفتی زبیر نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق اس دوسرے اجلاس بلانے پر پاکستان ریڈ کریسنٹ کی بھرپور ستائش کی اور کہا کہ اس اقدام سے ماحولیاتی تبدیلی جیسے نازک مسئلے پر ادارے اور اس کی انتظامیہ کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شجرکاری سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی عناصر کو کم کیا جا سکتا ہے اور شریعت میں بھی شجرکاری  کے بارے میں تعلیمات موجود ہیں اور پیغمر اسلام کی طرف سے بھی درخت لگانے کو کہا گیا ہے۔ درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ میں سے ایک عمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ درخت لگانے کو جب تک مذہب کا مسئلہ نہیں بنائے گے تب تک اس معاملے میں لوگ سنجیدہ نہیں ہونگے۔ مولانا تنویر الحق تھانوی اور دیگر علمائے کرام نے بھی اپنے کردار کو موثر انداز میں نبھانے اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس تقریب میں آئی بی اے، انسٹی ٹیوٹ آف اوشینگرافی پاکستان ، ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (ایس ای پی اے) ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ، پاکستان محکمہ موسمیات ، شہری جنگلات کراچی، اور میڈیا کی مختلف تنظیمیوں سے وابستہ سینئر صحافی حضرات نے بھی شرکت کی۔


Seven Fundamental Principles